فی ظلال القرآن کے تفسیری ادب ‘
میں اپنے اسلوب تفسیر ‘انداز بیان اور اپنی صورت فکر کے لحاظ
سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے ۔اس کا اسلوب بھی نیا ہے ۔عربی
زبان میں سید قطب صاحب طرز ادیب ہیں ۔انہوں نے جدید عربی کو
بالکل ایک نیا اسلوب دیا ہے ۔میں اسے ”ایمانی اسلوب“سے تعبیر
کرتا ہوں ۔نئی نئی تعبیرات کو استعمال میں لاکر اپنے مافی
الضمیر کا اظہار کیاہے ۔اس کا ترجمہ اس معیار کا توممکن ہی
نہیں ‘میں نے اپنے اس ترجمہ میں نہایت ہی سہل اور سادہ پیرایہ
اظہار میں ان کے مفہوم اور مراد کو منتقل کرنے کی سعی کی ہے ۔
کتاب کے معنوی حسن کے ساتھ
ساتھ ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ اس کی کتابت اور طباعت کا معیار
بھی بہتر ہو‘جس کی وجہ سے بہت ہی زیادہ اخراجات اٹھے ۔ہم نے یہ
فیصلہ کیا ہے کہ زیادہ اخراجات کے باوجود قیمت کم سے کم رکھی
جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین اسے خرید سکیں ۔اس لیے عام
کتابوں کی طرح اس میں زیادہ تاجرانہ کمیشن ملنا مشکل ہوگا۔
اس کتاب کی طباعت اور ترتیب میں
برخوردار سید عارف شیرازی نے ‘اپنی تعلیمی وتنظیمی مصروفیات کے
باوجود میری امداد کی ۔میں دعاکرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں
توفیق دے کہ وہ اس سلسلے کے اختتام تک یہ خدمت کرتے رہیں ۔اس
سلسلے کی مزید دوجلدیں تیار ہیں ۔باقی تین جلدیں ان شاءاللہ
جلد ہی منظر عام پر آجائیں گی ۔اللہ تعالیٰ اس پیشکش کو قبول
فرمائے آمین!
تولیجئے قارئین !میں ‘آپ اور سید قطب شہید
رحمہ اللہکے
درمیان زیاد دیر حائل نہیں رہنا چاہتا۔
سید معروف شاہ شیرازی
منصورہ 29دسمبر 1987
اور قرآن کے سائے میں جیتے ہوئے....
میں نے پایا کہ انسان کو اللہ
تعالیٰ نے ایک بلند رتبہ دیا ہے اور یہ عزت اور مرتبہ اسے نہ
پہلے کسی تصور حیات سے ملا اور نہ آئندہ ملے گا۔قرآنی تصور کی
رو سے انسان وہ ذات ہے جس میں خود اللہ ذوالجلال نے اپنی روح
پھونکی ۔
﴿وَ
نَفَختُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہ سٰجِدِینَ(حجر:۹۲)﴾”اور
اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں
گرجانا۔“بلکہ وہ اس کے ساتھ رب ذوالجلال کا خلیفہ بھی ہے
﴿وَ اِذ
قَالَ رَبُّکَ لِلمَلئِکَةِ اِنِّی جَاعِلٌ فِی الاَرضِ
خَلِیفَةً
﴾”اور جس وقت کہا آپ کے رب
نے فرشتوں کو کہ میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں ۔“اور
لیجئے وہ اس پوری کائنات کاامین بھی ہے اور یہ اسی کے لئے ہے﴿سَخَّرَ
لَکُم مَّا فِی الاَرضِ(حج:56)
﴾”مسخر
کرلیا ہے تمہارے لئے زمین کی چیزوں کو۔“انسان کی برگزیدگی کی
ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے اپنی اس قدر ومنزلت سے آگے بڑھ کر
اللہ کی ہدایت اور مشفقانہ نفخ روح ہی کو پوری انسانیت کے
باہمی اجتماعی روابط کی اساس اور وسیلہ بنایا۔ربط انسانیت کی
عمارت کی اساس ایمان باللہ کے عقیدے پر رکھی گئی۔اس کانتیجہ یہ
ہوا کہ ایک مومن کا نظریہ اور عقیدہ ہی اس کی قومیت قرار
پایا۔اور عقیدہ ہی اس کا وطن بنا
۔
ہرملک ملک ماست کہ ملک
خدائے مااست
عقیدہ ہی اس کا خاندان قرارپایا‘ایک مومن بھائی کا درجہ سگے
بھائی سے بلند اور مضبوط ہوگیا ۔چنانچہ انسانیت کا مستحکم
اجتماع اور اکٹھ ہمیشہ عقیدے ہی کی بنیاد پر ہوا اور کبھی وہ
حیوانات اور بہائم کی طرح باڑے ‘چراگاہ ‘چارے اور ریوڑ کی
بنیاد پر جمع نہ ہوئی ۔