بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہماری دعوت عملی توحید ( ملة ابراہیم) پرثابت
قدم
رہنا
جو شخص کفر اورایمان کافر اور
مسلم میں فرق نہیں جانتا اس کے سامنے مجرمین کا راستہ کیسے واضح
ہوگا؟
سوال : بہت سے لوگ ہیں
جو حقیقت توحید سے واقف نہیں ہیں وہ ہم سے کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی
تکفیر سے تم کیا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہو ؟یعنی طواغیت کے ان
گماشتوں اورحمایتیوں کی تکفیر کا کیا فائدہ ہے؟
جواب : پہلی بات تویہ
ہے کہ جب اﷲ کا یہ حکم ہے اور رہے گا تو اس کی حکمت اورمصلحت
کافائدہ معلوم کرنا ہما رے لئے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اﷲ کے
بندوں کے لیے یہی بات باعث خوشی رضامندی واطمینان ہوتی ہے کہ یہ اﷲ
کا حکم ہے اس پر عمل کرنا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کام کے بہت
سارے فائدے ہیں جن کی تفصیل یہاں بیان کرنا ممکن نہیں البتہ ایک
فائدہ تو ظاہر اور واضح ہے کہ عملی توحید (ملة ابراہیم) ثابت ہوجاتی
ہے تو یہی فائدہ کافی ہے ۔
اﷲ تعالیٰ کافرمان
ہے :
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ
وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ
مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا
بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ
وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ إِلا
قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ لأبِيهِ لأسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَا أَمْلِكُ
لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا
وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ (٤)
”تمہارے لیے ابراہیم(علیہ
السلام)اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے جب انہوں نے اپنی
قوم سے کہا کہ ہم بےزار ہیں تم سے اور جن کی تم اﷲ کے علاوہ عبادت
کرتے ہوان سے بھی ہم تمہارا اور تمہارے اس عمل کاانکار کرتے ہیں
ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی ونفرت ظاہر ہوگئی ہے ہمیشہ کے لیے
جب تک تم ایک اﷲ پر ایمان نہ لے آؤ۔“
اﷲتعالیٰ ہمیں ابراہیم علیہ
السلام اور ان کے ساتھیوں کی اقتداء کی طرف دعوت دے رہا ہے اس ملت
اور اس کے ارکان یعنی شرک ومشرکین سے براءت اپنانے کی دعوت دے رہا
ہے ان سے دشمنی کاحکم دے رہا ہے جب براءت وعداوت کا اظہار نہیں
ہوگا توکافر ومسلم کا فرق کیسے واضح ہوگا؟ کس سے براءت کا اعلان
کریں گے اورکیسے کریں گے ؟
اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے :
قُلْ يَا أَيُّهَا
الْكَافِرُونَ (١)لا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ (٢)وَلا أَنْتُمْ
عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (٣)وَلا أَنَا عَابِدٌ مَا عَبَدْتُمْ
(٤)وَلا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (٥)لَكُمْ دِينُكُمْ
وَلِيَ دِينِ (٦)
”کہدو اے کافرومیں اس کی
عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اورنہ تم میرے معبود کی
عبادت کرنا چاہتے ہواورمیں تمہارے معبود کی عبادت کرنے والا(مستقبل
میں بھی )نہیں ہوں۔ اور نہ تم (مستقبل میں )میرے معبود کی عبادت
کرنے والے ہو(لہٰذا) تمہارے لیے تمہارادین اورمیرے لیے میرا دین۔“
ایک اور بہت بڑا فائدہ غلط کو
صحیح سے الگ کرنا خبیث کو طیب سے ممتاز کرنا اورمجرمین کا راستہ
طریقہ سامنے لانا ہے۔اﷲتعالیٰ فرماتا ہے :
وَكَذَلِكَ نُفَصِّلُ الآيَاتِ
وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ (٥٥)
”اور اس طرح ہم تفصیل سے آیات
بیان کرتے ہیں تاکہ مجرمین کا راستہ واضح ہوجائے۔“
اب جو شخص کفر اورایمان کافر
اور مسلم میں فرق نہیں جانتا اس کے سامنے مجرمین کا راستہ کیسے
واضح ہوگا؟ تاکہ وہ اس سے اجتناب کرے اورمؤمنین کے راستے پرچل پڑے
۔ کس طرح مؤمنین سے اﷲ کے لیے محبت اورمجرمین سے اﷲ کے لیے نفرت کی
جائے شرک ومشرکین سے نفرت وعداوت کا اظہار کیسے کیا جائے گا؟ جبکہ
یہ ایمان کا مضبوط ترین کڑا ہے جسے تھامنا ایمان کالازمی جزء ہے ۔
وَالَّذِينَ كَفَرُوا
بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ
فِي الأرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ (٧٣)
”کافر ایک دوسرے کے دوست ہیں
اگر تم ایسا نہ کروگے توزمین میں فتنہ اوربہت بڑا فساد برپا ہوگا۔“
مؤمنین سے دوستی اورمشرکین سے دشمنی اسی وقت ہوسکتی ہے جب عملی طور
پر دوستی ودشمنی کی علامات سامنے آجائیں دونوں طرف کے گروہوں میں
تمیز ہوسکے مجرمین ومؤمنین کے راستوں کی تعیین ہوسکے اگر ایک چیز
عملاً ثابت ہوجائے تو وہ بہت بڑی دلیل بن جاتی ہے اس مسئلے کو
اہمیت نہ دینے کی وجہ سے ہی اب یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کس سے محبت
کی جائے کس سے نفرت وعداوت رکھی جائے؟مسلمانوں اورمجرمین میں
اختلاط پیدا ہوچکا ہے حالانکہ اﷲ تعالیٰ نے اس اختلاط کی مذمت کی
ہے فرمایا ہے :
أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ
كَالْمُجْرِمِينَ (٣٥)مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ (٣٦)
”کیا ہم مسلمانوں کو مجرمین
کی طرح بنادیں گے ؟تمہیں کیا ہوگیا ہے کیسے فیصلے کرتے ہو؟“
دوسری جگہ ارشاد ہے:
اَم نَجعَلُ المُتَّقِینَ کَالفُجَّار [صٓ:۸۲]
”کیا ہم متقین کو گناہ گاروں
کی طرح بنادیں گے ؟“
اﷲنے اس مسئلے پر ہی کچھ
احکامات کی بنیاد رکھی ہے مثلاً جان کی حفاظت، میراث،ولاء،نکاح،ذبح،
دوستی اورمعاملات وغیرہ حقوق جو صرف مسلم کے مسلم پرہیں کافر اس سے
خارج ہے۔یہی وجہ ہے کہ موحدین جو معاملہ اورسلوک اورجو رویہ مشرکین
کے ساتھ رکھتے ہیں دیگر لوگ جو اس مسئلہ کو اہمیت نہیں دیتے وہ اس
طرح کا رویہ مشرکین کے ساتھ نہیں رکھتے بلکہ موحدین پراعتراض کرتے
ہیں انہیں بدعتی بلکہ کافر تک قرار دینے سے دریغ نہیں کرتے صرف اس
وجہ سے کہ یہ موحدین خالص توحید کو اپناتے ہیں شرک ومشرکین سے
براءت کا اظہار کرتے ہیں ان سے دشمنی رکھتے ہیں ۔اس بنیاد پر ان
لوگوں نے موحدین سے نفرت وعداوت شروع کررکھی ہے ان پر طعن وتشنیع
کرتے ہیں ان کی دعوت کومطعون کرتے ہیں اس کے برعکس اﷲ کے دشمنوں سے
ہرطرح کی محبت ودوستی روا رکھتے ہیں انہیں اپنی محفلوں میں شریک
کرتے ہیں یہ لوگ توحید کی عظیم مصلحت جو کہ مسلمانوں اورمشرکین میں
فارق ہے اورملکی یکجہتی جو کہ کافروں اورمسلمانوں کو یکجاکرتی ہے
دونوں میں فرق نہیں کرتے ۔یہ لوگ جہالت یا تجاہل کی وجہ سے نبی صلی
اللہ علیہ وسلم کی اس وصف سے بے پروائی کرتے ہیں جو فرشتوں نے بیان
کی تھی کہ :
((ومحمد فرق بین الناس))[بخاری]ایک روایت میں ہے :((فرّق بین الناس))
”کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
لوگوں میں (مسلمان مشرکوں کے درمیان)فرق کرنے والے ہیں ۔“
یہ لوگ فرقان کی رہنمائی سے
اعراض کرتے ہیں جس نے مشرکین وموحدین میں فرق کیا ہے ایک فائدہ اس
تکفیر کا یہ ہے کہ مشرکین بت پرست ،مشرکین اہل کتاب اورمشرکین
مرتدین کی پہچان ہوجاتی ہے کہ اصلی کافر یہی ہیں ۔ رسول صلی اللہ
علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:تم ایسی قوم کے پاس
جارہے ہو جو اہل کتاب ہیں انہیں سب سے پہلے” لاالٰہ الااﷲ“کی دعوت
دو ،ایک روایت میں ہے انہیں اﷲ کی وحدانیت کی دعوت دو۔،اگر وہ
تمہاری اس بات کو تسلیم کرلیں تو پھر انہیں بتاؤ کہ اﷲ نے ان پر دن
رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں [صحیحین]۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم
نے ان لوگوں کی حالت وحکم دونوں بتلادئے پھر دعوت کی ترتیب بتائی
ان سے کیا معاملہ کرنا ہے وہ بتایا۔آخر میں ہم یہ کہنا چاہتے ہیں
کہ انہیں اﷲ کا خوف کرنا چاہیے اپنے بارے میں بھی اور ہمارے بارے
میں بھی جو لوگ کہ ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ ہم بالعموم تمام لوگوں
کو کافر کہتے ہیں حالانکہ انہوں نے ہماری بات سنی ہی نہیں نہ ہماری
کتابیں پڑھی ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم سب کو اﷲ تعالیٰ کے
سامنے جانا ہے جس سے کوئی بات مخفی نہیں ہے ان کی تمام چھوٹی بڑی
باتیں اعمال نامے کے اندر محفوظ ہوری ہیں۔ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے:
وَالَّذِينَ
يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا
اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا[الاحزاب:۸۵]
”جولوگ مؤمن مردوں عورتوں کو
ایذاءدیتے ہیں اس بات یا کام پر جو انہوں نے کیا تک نہیں تو یہ (ایذاء
دینے والے الزام لگانے والے)بہت بڑا گناہ اوربہتان کا کام کررہے
ہیں۔“
رسول صلی اللہ علیہ وسلم
کافرمان ہے :
((من قال فی ممن مالیس فیہ اسکنہ اﷲ ردغة الخبال حتی یاتی بالمخرج
مماقال ))[رواہ بوداود وطبرانی وغیرھما]
”جس نے مؤمن کے بارے میں ایسی
بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اﷲ اس آدمی کو جہنمیوں کی پیپ میں
رکھے گا جب تک اس جرم کی سزا نہ بھگت لے۔“
ہم وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ
ہم کسی مسلمان کو ایسے گناہ پر کافر قرارنہیں دیتے جو کافر بنانے
والاگناہ نہ ہوجب تک وہ اس گناہ کو حلال نہ سمجھے ۔ نہ ہم بالعموم
تمام لوگوں کو کافر کہتے ہیں جس طرح کہ ہم پر طاغوتوں کے حمایتی
الزام لگاتے ہیں ہم اس کو کافر کہتے ہیں جو توحید کو ڈھانے والا یا
ڈھانے والوں کے مددگار ومعاون ہیں یا جو لوگ توحید کے منافی امور
کے مرتکب ہیں یا اہل توحید سے دشمنی کرتے اور اہل توحید کے دشمنوں
سے دوستی اورمدد کرتے ہیں جو موحدین کے خلاف ان کا ساتھ دیتے ہیں ۔ہم
جانتے ہیں کہ تکفیر کے لیے کچھ شرائط اور موانع ہیں ہم ان شرائط کو
ملحوظ رکھ کر تکفیر کرتے ہیں اورجب موانع ورکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں
تب کرتے ہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ کوئی شخص بعض دفعہ کفریہ قول یا عمل
کا ارتکاب کرتا ہے مگر کسی رکاوٹ اورمانع کی وجہ سے اس کو کافرنہیں
کہا جاسکتا۔ہم نے ان سطورمیں جو کچھ کہا ہے یا دیگر اپنی کتب میں
جو کچھ لکھا ہے وہ ہے توحید کے دشمنوں شرک کے حمایتیوں
سےنکلنے
والوں کی تکفیر سے متعلق جو کہ دین
سے نکلنے کے علاوہ انسانوں کے بنائے ہوئے شرکیہ
دساتیر و قوانین کی حمایت ومدد کرتے ہیں ۔ان لوگوں کے واضح کفر پر
ہمارے پاس شرعی دلائل ہیں یہ کام ہم استحسان ،تقلید یا اپنی خواہش
کی بناء پر نہیں کرتے ہم ان سے کہتے ہیں کہ اللہ سے ڈٖرو۔
وَ لَا تَلبِسُوا الحَقَّ بِالبَاطِلِ وَ تَکتُمُوا الحَقَّ وَ
اَنتُم تَعلَمُون[البقرة:24]
”حق اور باطل کو باہم خلط مت
کرو حق کو مت چھپاؤ حالانکہ تم اچھی طرح جانتے ہو۔“
ہمارے اورتمہارے درمیان اﷲ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کی سنت ہے ان دونوں کے علاوہ ہم کسی کو فیصلہ کاحق نہیں دیتے
قرآن وسنت سے کوئی دلیل لے آؤ جو ہماری اس بات کوغلط ثابت کردے تو
آپ دیکھیں گے کہ ہم اپنی بات سے کتنی جلدی رجوع کرتے ہیں ۔
قُل ہَاتُوا بُرہَانَکُم اِن کُنتُم صٰدِقِینَ[البقرة:۱۱۱]
”دلیل لاؤاوراپنی سچائی ثابت
کرو۔“
جہاں تک بلا دلیل اور خود
ساختہ الزامات وبہتانوں کی بات ہے جن میں قرآن وسنت کی کوئی دلیل
نہیں ہے توہم ان کو ردّ کرتے ہیں انہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے
بلادلیل باتیں کرنا بے فائدہ وبے مقصد کام ہے ہم اس سے گریز کرتے
ہیں ۔
اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے:
فَبِاَیِّ حَدِیثٍ بَعدَ اﷲِ وَ ٰاٰیتِہ یُؤمِنُون [الجاثیة:6]
”اﷲاور اس کی آیا ت کے علاوہ
یہ کس بات پر یقین کریں گے ؟“
ابن قیم رحمہ اللہ قرآن وسنت کے بارے میں فرماتے ہیں:
جس کے لیے یہ دونوں کافی نہیں تو اﷲ اسے زمانے کی برائیوں سے نہ
بچائے ۔جس کو ان دونوں سے تسلی وتشفی اور شفاءنہیں ملتی اﷲ اس کے
دل وجسم میں شفاء نہ دے ۔جس کے لیے یہ دونوں کفایت نہ کریں ۔اﷲاسے
محروم ہی رکھے ۔بات ہمیشہ بڑوں سے کی جاتی ہے۔ ذلیل وکمتر لوگوں سے
نہیں ۔ وصلی اﷲ علیہ وسلم